اہم نکات
- جذباتی کھانا کسی احساس کو بہلانے کے لیے کھانا ہے، جیسے ذہنی دباؤ، بوریت، اداسی یا تنہائی، نہ کہ جسم کی بھوک مٹانے کے لیے۔ تقریباً ہر کوئی کبھی کبھار ایسا کرتا ہے، اور اس سے آپ کے بارے میں کوئی بری بات ثابت نہیں ہوتی۔
- جسمانی بھوک آہستہ آہستہ بڑھتی ہے اور تقریباً ہر کھانے سے مٹ جاتی ہے۔ جذباتی بھوک عموماً اچانک آتی ہے، کسی ایک خاص چیز پر اڑ جاتی ہے اور پیٹ بھرنے سے بھی ٹھنڈی نہیں ہوتی۔
- ذہنی دباؤ، کم نیند، سخت ڈائٹنگ اور وزن کے طعنے، یہ سب کھانے کی طلب کو تیز کر دیتے ہیں۔ یہ جسم اور معاشرے کے دباؤ ہیں، قوتِ ارادی کی کمی نہیں۔
- چند عملی طریقے کام آتے ہیں: کھانے سے پہلے مختصر وقفہ، HALT جانچ (بھوک، غصہ یا گھبراہٹ، تنہائی، تھکن)، کھانے اور موڈ کی ڈائری، سنبھلنے کے دوسرے طریقے، باقاعدہ کھانا اور پوری نیند۔
- خود کو کوسنے سے زیادہ مہربانی کام کرتی ہے۔ چُوک کے بعد خود پر سختی اکثر اگلی بار پھر کھانے کی طرف لے جاتی ہے؛ خود کو سمجھنا تبدیلی کو آسان بناتا ہے۔
- اگر کھانا اکثر قابو سے باہر لگتا ہے، یا بہت زیادہ کھانے کے بعد شدید بے چینی اور شرمندگی ہوتی ہے، تو یہ بنج ایٹنگ ڈس آرڈر ہو سکتا ہے۔ اس کا علاج ممکن ہے: براہِ کرم اپنے ڈاکٹر یا کھانے کے عوارض (ایٹنگ ڈس آرڈر) کی کسی سروس سے بات کریں۔

جذباتی کھانا (ایموشنل ایٹنگ) کیا ہے؟
جذباتی کھانا، یعنی ایموشنل ایٹنگ، تب ہوتا ہے جب ہم جسمانی بھوک کے بجائے دل کی کیفیت کے جواب میں کھاتے ہیں۔ کسی پریشان کن فون کال کے بعد بسکٹ کا پیکٹ کھل جاتا ہے، خالی سی شام میں باہر سے کھانا منگوا لیا جاتا ہے، یا پیسوں کی فکر کرتے کرتے نمکو چلتی رہتی ہے۔
ذہنی دباؤ میں زیادہ کھانا اس کی سب سے عام شکل ہے: دباؤ میں ہوں تو زیادہ کھانا، یا مختلف قسم کا کھانا۔ مگر خوشی کے لمحے بھی اس میں شامل ہیں۔ عید، شادیاں اور انعام کے موقعے کھانوں سے بھرے ہوتے ہیں، اور یہ انسان ہونے کا حصہ ہے۔
کھانے سے تسلی ملنا معمول کی بات ہے۔ کھانے کے عوارض پر کام کرنے والی برطانوی تنظیم Beat جذبات میں زیادہ کھانے کو کھانے کا ایک رویہ کہتی ہے، کوئی ایٹنگ ڈس آرڈر نہیں۔ مسئلہ تب بنتا ہے جب مشکل احساسات سے نمٹنے کا بنیادی یا واحد ذریعہ کھانا بن جائے، یا کھانے کے بعد دل ہلکا ہونے کے بجائے اور بوجھل ہو جائے۔
جذباتی کھانے کا چکر
بہت سے لوگ ایک دائرہ پہچانتے ہیں۔ کوئی مشکل احساس ابھرتا ہے، کھانا فوری سکون دیتا ہے، پھر احساسِ جرم یا شرمندگی آ جاتی ہے۔ یہ نئے احساسات بھی چبھتے ہیں، اس لیے کھانے کی خواہش لوٹ آتی ہے۔
اصل احساس کہیں نہیں گیا؛ بس کچھ دیر کے لیے ٹل گیا ہے۔ اسی لیے سب سے کام کا سوال اکثر یہ نہیں ہوتا کہ “میں کھانا کیسے بند کروں؟” بلکہ یہ کہ “مجھے اس وقت دراصل کس چیز کی ضرورت ہے؟”
یہ قوتِ ارادی کا معاملہ کیوں نہیں
اگر آپ موٹاپے کے ساتھ زندگی گزار رہے ہیں تو شاید آپ سے کہا گیا ہو کہ بس تھوڑا اور ضبط چاہیے۔ شواہد کچھ اور بتاتے ہیں۔ ہارمون، نیند، ذہنی دباؤ، اردگرد ملنے والا کھانا، پرانے تجربات اور بڑے جسم والوں سے معاشرے کا سلوک، سب مل کر طے کرتے ہیں کہ ہم کیسے اور کب کھاتے ہیں۔
11 مطالعات کے ایک میٹا اینالیسس میں دیکھا گیا کہ موٹاپے کے ساتھ رہنے والے بالغوں میں جذباتی کھانے کے اسکور اوسطاً صحت مند وزن والے بالغوں سے زیادہ تھے۔ اس تعلق سے یہ معلوم نہیں ہوتا کہ وجہ کیا ہے اور نتیجہ کیا، اور اس کا مطلب ہرگز یہ نہیں کہ بڑے جسم والا ہر شخص جذبات میں کھاتا ہے۔
ہاں، اس سے یہ ضرور واضح ہوتا ہے کہ موٹاپے کی اچھی دیکھ بھال میں جذباتی کھانے کے لیے مدد کی جگہ ہونی چاہیے۔ موٹاپے کی وجوہات والا ہمارا صفحہ پوری تصویر سمجھاتا ہے۔
جسمانی بھوک اور جذباتی بھوک میں فرق کیسے پہچانیں؟
جسمانی بھوک میں جسم توانائی مانگتا ہے؛ جذباتی بھوک میں ذہن تسلی، دھیان بٹانے یا راحت کا تقاضا کرتا ہے۔ شروع میں دونوں ایک جیسی لگ سکتی ہیں، خاص طور پر اگر برسوں سے کھانا ہی آپ کا سہارا رہا ہو۔ نیچے دی گئی نشانیاں دونوں کو الگ کرنے میں مدد دیتی ہیں۔
| نشانی | جسمانی بھوک | جذباتی بھوک |
|---|---|---|
| آغاز کیسے ہوتا ہے | آہستہ آہستہ، ایک گھنٹے یا زیادہ میں بڑھتی ہے | اچانک، اکثر کسی احساس، خیال یا صورتِ حال کے فوراً بعد |
| پچھلے کھانے سے تعلق | عموماً آخری بار کھائے کچھ گھنٹے گزر چکے ہوتے ہیں | پیٹ بھر کر کھانے کے تھوڑی دیر بعد بھی اٹھ سکتی ہے |
| کہاں محسوس ہوتی ہے | جسم میں: پیٹ میں گڑگڑاہٹ یا خالی پن، کم توانائی، سر ہلکا ہونا، چڑچڑاپن | ذہن میں: کسی ذائقے، بناوٹ یا خوشبو کا خیال جو پیچھا نہیں چھوڑتا |
| کون سا کھانا چلے گا | کئی چیزیں ٹھیک لگتی ہیں، جیسے روٹی سالن یا دال چاول | بس ایک خاص چیز چاہیے، اکثر کچھ میٹھا، نمکین یا کریمی |
| جلدی | ضرورت ہو تو کچھ دیر رک سکتے ہیں | لگتا ہے ابھی، اسی لمحے پوری ہونی چاہیے |
| کب رکتے ہیں | آرام سے پیٹ بھرنے پر رکنا آسان ہوتا ہے | پیٹ بھرنے کے بعد بھی کھاتے رہنا آسان ہے، کبھی پتا بھی نہیں چلتا |
| بعد میں | تسلی ملتی ہے اور آپ اپنے کام میں لگ جاتے ہیں | احساسِ جرم، پچھتاوا یا شرمندگی ہو سکتی ہے، اور جس احساس سے شروعات ہوئی وہ وہیں کا وہیں رہتا ہے |
کوئی بھی ان خانوں میں پوری طرح فٹ نہیں بیٹھتا۔ اگر آپ نے بہت دیر سے کچھ نہیں کھایا تو جسمانی بھوک بھی بے صبر لگ سکتی ہے اور فوراً کچھ میٹھا کھانے کو دل چاہتا ہے۔ یہی ایک وجہ ہے کہ آگے بیان کیے گئے باقاعدہ کھانے اتنے اہم ہیں۔
دھیان بٹا ہو تو اشارے بھی دھندلا جاتے ہیں۔ Cleveland Clinic کے ماہرینِ نفسیات بتاتے ہیں کہ اسکرین کے سامنے کھاتے ہوئے لوگ جذباتی بھوک کو آسانی سے نہیں پہچان پاتے۔ دن میں ایک بار فون یا ٹی وی کے بغیر کھانا، یہ فرق محسوس کرنا شروع کرنے کا آسان طریقہ ہے۔
بھوک پر قابو، جسم کے ساتھ مل کر
بھوک پر قابو کا مطلب بھوک کو نظرانداز کرنا نہیں۔ اصل بھوک ایک مفید اشارہ ہے، اور اسے گھنٹوں دبائے رکھنا عموماً دن میں بعد میں الٹا پڑتا ہے۔ بہتر قابو یہ ہے کہ جسمانی بھوک کو وقت پر کھانا ملے، اور باقی قسم کی بھوک کا کوئی بہتر جواب تلاش کیا جائے۔
کھانے سے پہلے خود سے دو سوال پوچھنا اچھی عادت ہے: “کیا میرا جسم بھوکا ہے؟” اور “میں اور کیا محسوس کر رہا/رہی ہوں؟” دونوں جواب ایک ساتھ سچ ہو سکتے ہیں، اور اس میں کوئی حرج نہیں۔
ذہنی دباؤ میں زیادہ کھانا اور کھانے کی طلب کیوں ہوتی ہے؟
ذہنی دباؤ میں زیادہ کھانے کی وجہ یہ ہے کہ لمبا چلنے والا دباؤ ہارمونز اور دماغ کے انعامی نظام کو اس طرح بدلتا ہے کہ چکنائی والا، میٹھا کھانا زیادہ للچانے لگتا ہے۔ یہ جسم کا ردِعمل ہے، کمزوری نہیں۔
بہت تھوڑے عرصے کے لیے دباؤ اکثر الٹا اثر کرتا ہے۔ اچانک ڈر لگنے پر ایڈرینالین کی لہر کچھ دیر کے لیے بھوک بند کر دیتی ہے۔ لیکن جب دباؤ ہفتوں یا مہینوں تک رہے تو کورٹیسول ہارمون بلند رہتا ہے، اور دباؤ اور کھانے پر ایک جائزے میں پایا گیا کہ زندگی کا طویل دباؤ زیادہ چینی اور چکنائی والے کھانوں کی طرف جھکاؤ سے جڑا ہے۔
محققین Tanja Adam اور Elissa Epel نے “انعام پر مبنی اسٹریس ایٹنگ” کا ایک ماڈل پیش کیا۔ اس کے مطابق ذہنی دباؤ اور بے حد مزیدار کھانا، دونوں دماغ کے انعامی راستوں کو متحرک کرتے ہیں، اور چینی و چکنائی سے بھرا کھانا دباؤ کے ردِعمل کو کچھ دیر کے لیے ٹھنڈا کر سکتا ہے۔ یہی وقتی راحت سمجھاتی ہے کہ تسلی والا کھانا اتنا سکون کیوں دیتا ہے، اور یہ عادت چھوٹتی کیوں نہیں۔
کھانے کی طلب بڑھانے والی دوسری باتیں
- بہت کم نیند۔ دماغ کی اسکیننگ والے ایک مطالعے میں ایک رات نہ سونے سے فیصلے تولنے والے حصوں کی سرگرمی گھٹ گئی اور زیادہ کیلوری والے کھانوں کی چاہ بڑھ گئی۔
- سخت اصول اور ممنوعہ کھانے۔ کھانے کی طلب پر تحقیق کے ایک جائزے میں دیکھا گیا کہ کسی ایک چیز سے پرہیز یا دوری کی کوشش ٹھیک اسی چیز کی طلب بڑھا دیتی ہے۔
- وزن سے جڑا بدنامی کا داغ۔ Appetite جریدے کے ایک جائزے میں پایا گیا کہ وزن کی وجہ سے تحقیر کا سامنا کم صحت مند کھانے کے انداز سے جڑا ہے، جن میں بے قابو ہو کر کھانا بھی شامل ہے، اور تجربات میں بدنامی یا سماجی بے رخی جھیلنے کے بعد لوگوں نے زیادہ کھایا۔ وزن سے جڑی بدنامی اور اس کے اثرات کے بارے میں مزید پڑھیں۔
- اردگرد کے اشارے۔ کسی پسندیدہ چیز کو دیکھنا، سونگھنا یا بس اس کے بارے میں سوچنا بھی طلب جگا سکتا ہے، خاص طور پر ان جگہوں پر جہاں آپ اسے اکثر کھاتے رہے ہیں، جیسے شام کو صوفے پر۔
- کھانوں کے درمیان لمبا وقفہ۔ بہت بھوکے شخص کے لیے سکون سے انتخاب کرنا کہیں زیادہ مشکل ہوتا ہے۔
نیند، ذہنی دباؤ اور ذہنی صحت والا ہمارا صفحہ کورٹیسول، اداس موڈ اور جسم کی گھڑی کو قریب سے دیکھتا ہے۔
کھانے کی طلب: یہ کیا ہے اور کیا نہیں
کھانے کی طلب کسی ایک خاص چیز کی شدید چاہ ہے۔ یہ بہت عام ہے: تحقیقی جائزوں کے مطابق زیادہ تر نوجوان بالغ اسے محسوس کرتے ہیں، اور اس کا گہرا تعلق کسی چیز کو پسند کرنے سے ہے، اس کی ضرورت سے نہیں۔
ایک عام خیال ہے کہ طلب جسم میں کسی غذائی جزو کی کمی کا اشارہ ہے۔ روزمرہ کی زیادہ تر طلب کے لیے تحقیق اس کی تائید نہیں کرتی۔ ماہرِ نفسیات Andrew Hill نے ایک جائزے میں یہ نتیجہ نکالا کہ طلب کو سیکھنے، عادات، موڈ اور پابندی کے اثر سے بہتر سمجھا جا سکتا ہے، غذائی ضرورت سے نہیں۔
اگر چاکلیٹ یا مٹھائی کی طلب ہوتی ہے تو کہیں زیادہ امکان یہ ہے کہ آپ تھکے ہوئے ہیں، دباؤ میں ہیں یا دن کے اس وقت میٹھا کھانے کی عادت ہے، نہ کہ کسی چیز کی کمی۔
کیا کھانے کا انداز بدلنے سے طلب بڑھ جاتی ہے؟
بہت سے لوگ ڈرتے ہیں کہ صحت مند کھانا شروع کرتے ہی کبھی نہ ختم ہونے والی طلب کا سامنا ہو گا۔ شواہد زیادہ امید دلاتے ہیں۔ موٹاپے والے بالغوں پر 8 مطالعات کے ایک میٹا اینالیسس میں پایا گیا کہ طویل، منظم وزن کنٹرول پروگراموں کے دوران کھانے کی مجموعی طلب، بشمول میٹھے، چکنائی والے، نشاستہ دار اور فاسٹ فوڈ کی طلب، اوسطاً کم ہوئی۔ یہ پروگرام ماہرین کی نگرانی میں تھے؛ اسے اکیلے سخت ڈائٹ شروع کرنے کا بہانہ نہ بنائیں۔
یہی تحقیق دوسرا پہلو بھی دکھاتی ہے: جب کسی ایک کھانے پر “ممنوع” کا ٹھپہ لگ جائے تو وہ اور زیادہ للچانے لگتا ہے۔ اس لیے بتدریج اور لچکدار تبدیلی مدد دیتی ہے، جبکہ کڑی پابندیاں الٹی پڑتی ہیں۔ اسی وجہ سے ہمارے کھانے کے مشورے کبھی کسی غذائی گروپ کو نکالتے نہیں اور کسی کھانے کو “برا” نہیں کہتے۔
طلب کے عام لمحے اور ان کے پیچھے کیا ہو سکتا ہے
| صورتِ حال | آپ کو دراصل کیا چاہیے ہو سکتا ہے | کھانے کے بجائے، یا کھانے سے پہلے، کیا آزمائیں |
|---|---|---|
| کام پر سہ پہر ڈھلتے، توانائی گر رہی ہے | ایندھن، وقفہ، ماحول کی تبدیلی | دوپہر کا کھانا کافی پہلے ہوا ہو تو پہلے سے طے اسنیک، ایک گلاس پانی، باہر پانچ منٹ کی واک |
| کسی بحث یا پریشان کن میسج کے بعد | ٹھنڈا ہونا اور محفوظ محسوس کرنا | آہستہ سانس، جس میں سانس چھوڑنا لمبا ہو، باہر نکل جانا، جو ہوا اسے لکھ لینا |
| شام کو صوفے پر اکیلے | ساتھ، تسلی، کرنے کو کچھ | کسی دوست کو فون یا میسج، ہاتھوں سے کرنے والا کوئی مشغلہ، کوئی گرم مشروب |
| رات ٹھیک سے نہ سو پانے کے بعد | آرام اور توانائی | اس دن باقاعدہ کھانا، تھوڑا آرام، رات کو جلدی سونا |
| انتظار یا اسکرول کرتے ہوئے بوریت | دلچسپی یا کوئی مقصد | کوئی چھوٹا پسندیدہ کام، موسیقی، پوڈکاسٹ، تھوڑا اسٹریچ |
| جشن یا انعام | قدردانی اور خوشی | کھانے کا دھیان سے مزہ لیں، یا خود کو دوسرے طریقوں سے بھی انعام دیں: اپنے لیے وقت، کوئی فلم، چلنے کے نئے جوتے |
| آپ کے جسم پر کسی چبھتے تبصرے کے بعد | عزت، تسلی، سہارا | کسی ایسے شخص سے بات جو آپ کے ساتھ کھڑا ہو، خود کو یاد دلانا کہ وہ تبصرہ کہنے والے کے بارے میں زیادہ بتاتا ہے |
جذباتی کھانا کیسے روکیں؟
جذباتی کھانا روکنے کے لیے کامل ضبط کی ضرورت نہیں؛ ضرورت ہے چند بھروسے مند عادتوں کی جو احساس اور کھانے کے درمیان تھوڑی جگہ بنا دیں۔ یہ طریقے سب سے اچھا تب کام کرتے ہیں جب آپ ایک دو چنیں، چند ہفتے ان کی مشق کریں، پھر اگلا شامل کریں۔
اگر آپ کو ذیابیطس ہے اور آپ انسولین یا ایسی دوائیں لیتے ہیں جن سے شوگر بہت گر سکتی ہے، اگر آپ کو اب یا پہلے کبھی ایٹنگ ڈس آرڈر رہا ہے، یا آپ حاملہ ہیں، تو پہلے اپنے ڈاکٹر سے بات کریں۔ کھانے کے اوقات اور کھانے میں تبدیلی آپ کی بلڈ شوگر اور علاج پر اثر ڈال سکتی ہے۔
1. کھانے سے پہلے رکیں
جذباتی کھانا اکثر خود بخود، بے سوچے ہوتا ہے۔ ایک مختصر وقفہ اس خودکار حرکت کو ایک انتخاب میں بدل دیتا ہے۔ Cleveland Clinic کی ماہرِ نفسیات Susan Albers مشورہ دیتی ہیں کہ اپنی بھوک کا “انٹرویو” لیں اور اس پر عمل سے پہلے خود کو پانچ منٹ دیں۔
یہ وقفہ پابندی نہیں ہے۔ آپ خود سے “یہ نہیں ملے گا” نہیں کہہ رہے، صرف “ذرا ٹھہرو” کہہ رہے ہیں۔ آہستہ سانس لیں، ہاتھ میں کھانا ہو تو رکھ دیں اور پوچھیں: “میں کیا محسوس کر رہا/رہی ہوں؟” وقفے کے بعد بھی کھانے کو دل چاہے تو کھائیں اور مزہ لیں۔ آپ نے پھر بھی کچھ سیکھا ہے۔
2. HALT جانچ کریں
HALT ایک فوری خود جانچ ہے جو سیلف ہیلپ اور ریکوری گروپوں میں برسوں سے استعمال ہوتی ہے۔ انگریزی کے چار حروف چار سوال پوچھتے ہیں:
- H – Hungry، بھوک؟ کیا میرا جسم سچ میں کھانا مانگ رہا ہے؟ اگر ہاں، تو کچھ غذائیت والا کھائیں۔
- A – Angry، غصہ یا گھبراہٹ؟ کیا میں تناؤ میں ہوں؟ آہستہ سانس لیں، پاؤں زمین پر دبائیں یا تھوڑا ٹہل آئیں۔
- L – Lonely، تنہائی؟ کیا مجھے کسی کا ساتھ چاہیے؟ میسج بھیجیں، کسی کو فون کریں یا کسی پڑوسی سے مل آئیں۔
- T – Tired، تھکن؟ کیا مجھے کھانے سے زیادہ آرام کی ضرورت ہے؟ تھوڑا آرام، ایک کپ چائے یا جلدی سونا اسنیک سے زیادہ مدد کر سکتا ہے۔
یہ چار حروف ایک اسٹکی نوٹ پر لکھ کر فریج یا اس الماری پر لگا دیں جہاں اسنیکس رکھے ہوتے ہیں۔ سننے میں معمولی لگتا ہے، مگر طلب کے لمحے میں سامنے دکھائی دینے والی یاد دہانی اس جانچ کو بہت آسان بنا دیتی ہے۔

3. کھانے اور موڈ کی ڈائری رکھیں
کھانے اور موڈ کی ڈائری آپ کو اپنے ذاتی پیٹرن پہچاننے میں مدد دیتی ہے۔ وزن اور صحت کے رویّاتی پروگراموں میں کھانے کا حساب رکھنا ایک بنیادی حصہ ہے: ایک منظم جائزے میں خود نگرانی اور بہتر نتائج کے درمیان مسلسل تعلق ملا، اگرچہ مطالعات کا معیار محدود تھا۔
جذباتی کھانے میں یہ زیادہ اہم ہے کہ آپ کیا محسوس کرتے ہیں، یہ نہیں کہ کیا کھاتے ہیں۔ کیلوریز گننے یا کچھ تولنے کی ضرورت نہیں۔ جب بھی آپ اپنے معمول کے کھانوں کے علاوہ کچھ کھائیں، یا کھانے کو دل چاہے، کسی کاپی یا فون نوٹ میں دو چار لفظ لکھ لیں۔
| کب اور کہاں | ٹھیک پہلے کیا ہوا | میں نے کیا محسوس کیا | جسم بھوکا؟ (ہاں / تھوڑا / نہیں) | میں نے کیا کھایا یا کیا | بعد میں کیسا لگا |
|---|---|---|---|---|---|
| منگل، 21:30، صوفہ | لمبا دن، امی نے فون پر بری خبر سنائی | فکرمند، نڈھال | نہیں | پیکٹ سے سیدھے چپس | فکر اب بھی، تھوڑا احساسِ جرم |
| جمعرات، 16:00، دفتر | میٹنگوں کی وجہ سے دوپہر کا کھانا رہ گیا | کپکپاہٹ، چڑچڑاپن | ہاں | دہی اور ایک سیب | پُرسکون، توجہ دے سکا/سکی |
| ہفتہ، 15:00، گھر | کوئی پروگرام نہیں، بارش | بوریت، بے چینی | تھوڑا | بہن کو فون کیا، پھر طے شدہ اسنیک لیا | خوشی کہ سوچ کر چنا |
دو ہفتے بعد اسے تجسس سے پڑھیں، خود کو پرکھنے کے لیے نہیں۔ زیادہ تر لوگوں کو دو تین بار بار آنے والی صورتیں نظر آتی ہیں، جیسے دن کا کوئی خاص وقت، کوئی خاص شخص یا کسی خاص قسم کی تھکن۔ انہی لمحوں کے لیے پہلے سے منصوبہ بنائیں۔
اگر لکھنے سے گھبراہٹ ہونے لگے، یا یہ کڑی نگرانی اور کنٹرول جیسا لگنے لگے، تو رک جائیں اور کسی سے بات کریں۔ ڈائری سے زندگی ہلکی ہونی چاہیے، بھاری نہیں۔
4. سنبھلنے کے دوسرے طریقے بنائیں
اگر مشکل احساسات کے لیے کھانا ہی آپ کا واحد ذریعہ ہے تو کھانے کی خواہش کم ہونے سے پہلے دوسرے ذرائع درکار ہوں گے۔ جو چیزیں آپ کی مدد کرتی ہیں ان کی ایک چھوٹی ذاتی فہرست بنا کر فون میں رکھیں۔ کچھ بھی چن لینے کے بجائے انہیں احساس کے مطابق ملائیں۔
- دباؤ یا گھبراہٹ میں: تیز قدموں سے واک، آہستہ سانس، اسٹریچنگ، نہانا، فکر کو کاغذ پر اتارنا، کوئی گانا لگا کر اس پر حرکت کرنا۔
- اداسی یا تنہائی میں: کسی بھروسے کے شخص کو فون یا وائس میسج، کوئی تصویر جو مسکراہٹ لے آئے، کسی پالتو جانور کے ساتھ وقت، لوگوں کے بیچ رہنے کے لیے کسی کیفے، پارک یا لائبریری تک جانا۔
- بوریت میں: کوئی پہیلی، پوڈکاسٹ، ڈرائنگ، باغبانی، کوئی چھوٹا کام جو ٹلتا آ رہا تھا، کسی نئی گلی تک ٹہلنا۔
- تھکن میں: آنکھیں بند کر کے آرام، کوئی گرم مشروب، نیم گرم پانی سے غسل، جلدی بستر پر جانا۔
- غصے میں: تیز چال سے ٹہلنا، ایک ایسا خط لکھنا جو بھیجا نہیں جائے گا، تکیہ بھینچنا، ٹھنڈا ہونے کے بعد بات کرنا۔
حرکت کا الگ سے ذکر ضروری ہے۔ زیادہ وزن والے بالغوں پر ایک کراس اوور مطالعے میں 15 منٹ کی تیز واک نے آرام کے مقابلے میں میٹھے اسنیکس کی خواہش کم کی، دباؤ والے کام کے دوران بھی۔ جم کی ضرورت نہیں: ہماری پیدل چلنے کی گائیڈ آرام دہ رفتار سے چند منٹ سے شروع ہوتی ہے، اور جوڑوں کے لیے ہلکی ورزشیں بھی تناؤ نکالنے میں مدد کر سکتی ہیں۔
5. باقاعدہ اور پیٹ بھرنے والا کھانا کھائیں
کھانا چھوڑ دینا اس شام کا سب سے عام آغاز ہے جس میں تھوڑی تھوڑی دیر بعد کچھ نہ کچھ منہ میں جاتا رہتا ہے۔ جب جسم سچ میں بہت بھوکا ہو تو جذبات اور بھوک ایک دوسرے پر چڑھ جاتے ہیں اور کھانے کی خواہش کہیں زیادہ زوردار ہو جاتی ہے۔
بے قابو ہو کر کھانے والوں کے لیے Cleveland Clinic کا مشورہ صاف ہے: بھوک لگے تو کھائیں اور بھوک سے نڈھال ہونے تک انتظار نہ کریں۔ زیادہ تر لوگوں کے لیے دن میں تین کھانے اور ضرورت ہو تو ایک دو طے شدہ اسنیکس ایک پُرسکون معمول دیتے ہیں۔ کھانوں کو سبزیوں، پروٹین، ثابت اناج اور تھوڑی اچھی چکنائی کے گرد بنائیں، تاکہ پیٹ دیر تک بھرا رہے۔
ہمارا مفت ڈائٹ پلان دکھاتا ہے کہ باقاعدہ، پیٹ بھرنے والے کھانے عملی طور پر کیسے ہو سکتے ہیں۔ اگر آپ کو کھانوں کے درمیان کچھ کھانا پسند ہے تو صحت مند اسنیکس والی ہماری گائیڈ میں طے شدہ معمول میں فٹ ہونے والے آئیڈیاز ہیں۔
6. اپنی نیند بچائیں
جذباتی کھانے کے لیے نیند سب سے کم اہمیت پانے والا ذریعہ ہے۔ نیند پوری نہ ہو تو دماغ کے “بریک” کمزور پڑ جاتے ہیں اور زیادہ کیلوری والا کھانا اور بھی پُرکشش لگتا ہے، جیسا کہ اوپر بیان کی گئی برین اسکین تحقیق میں دکھائی دیا۔
چھٹی کے دنوں میں بھی سونے اور جاگنے کا وقت ایک جیسا رکھنے کی کوشش کریں۔ سونے سے ایک گھنٹہ پہلے اسکرین مدھم کر دیں، چائے کافی صبح تک محدود رکھیں اور کمرے کو اندھیرا اور ٹھنڈا رکھیں۔ اگر آپ زور سے خراٹے لیتے ہیں، رات کو سانس رکتی ہے یا دن میں بہت نیند آتی ہے تو ڈاکٹر کو بتائیں: سلیپ ایپنیا عام ہے اور اس کا علاج ممکن ہے۔
7. جب کھائیں تو پورے دھیان سے کھائیں
مائنڈفل ایٹنگ کا مطلب ہے کھانے پر پوری توجہ دینا: اس کا ذائقہ، بناوٹ اور خوشبو، اور کھاتے وقت جسم کیسا محسوس کرتا ہے۔ 14 مطالعات کے ایک منظم جائزے میں پایا گیا کہ مائنڈفلنیس مراقبے نے ان لوگوں میں بے قابو کھانا اور جذباتی کھانا کم کیا جو ان سے دوچار تھے، جبکہ وزن پر اثر ملا جلا رہا۔
عملی طور پر: بیٹھ کر کھائیں، پیکٹ سے سیدھا کھانے کے بجائے پلیٹ میں نکالیں، پہلے نوالے سے پہلے چند آہستہ سانسیں لیں، اور بیچ بیچ میں چمچ رکھ دیں۔ اگر تسلی والا کوئی کھانا کھانے کا فیصلہ کریں تو اس پر پوری توجہ دیں۔ اکثر دیکھیں گے کہ تھوڑی مقدار سے ہی زیادہ تسلی ملتی ہے۔
8. آسان انتخاب کو مددگار انتخاب بنائیں
آپ کا ماحول کچھ کام آپ کے لیے کر سکتا ہے۔ پسندیدہ تسلی والے کھانے کاؤنٹر پر رکھنے کے بجائے نظر سے دور رکھیں، بڑے فیملی پیک کی جگہ چھوٹے پیک خریدیں، اور پھل، دہی یا کٹی سبزیاں فریج میں سب سے آگے تیار رکھیں۔
یہ کسی کھانے پر پابندی نہیں۔ مقصد بس اتنا ہے کہ آپ کے اور بے سوچے ہاتھ بڑھانے کے بیچ تھوڑا فاصلہ ہو، تاکہ انتخاب کے لیے ایک لمحہ مل جائے۔
جذبات میں زیادہ کھا لینے کے بعد کیا کریں
جذبات میں زیادہ کھا لینے کے بعد سب سے مددگار بات یہ ہے کہ خود سے ہمدردی سے پیش آئیں اور اگلے کھانے سے اپنے معمول پر لوٹ آئیں۔ اگلے دن کھانا چھوڑ کر یا بہت کم کھا کر “حساب برابر” کرنا اکثر چکر کو پھر سے شروع کر دیتا ہے۔
لگتا ہے کہ خود پر تنقید حوصلہ دے گی، مگر تحقیق الٹا اشارہ کرتی ہے۔ 59 مطالعات کے ایک میٹا اینالیسس میں پایا گیا کہ خود سے زیادہ ہمدردی کھانے سے متعلق کم مسائل اور جسم کی شبیہ کے بارے میں کم فکر سے جڑی تھی۔
خود سے ویسے بات کریں جیسے کسی اچھے دوست سے کرتے: “آج کا دن بھاری تھا۔ کھانے سے میں نے خود کو سنبھالا۔ اگلی بار شاید پہلے واک یا ایک فون آزماؤں۔” پھر بغیر فیصلہ سنائے ڈائری میں لکھ لیں کہ کیا ہوا۔ ہر واقعہ آپ کے محرکات کے بارے میں کوئی کام کی بات بتاتا ہے۔
- تھوڑا پانی پئیں اور اپنے دن میں آگے بڑھیں۔
- اگلا کھانا معمول کے وقت پر اور معمول کی مقدار میں کھائیں۔
- یہ دیکھیں کہ ٹھیک پہلے کیا ہوا تھا، یہ نہیں کہ کتنا کھایا۔
- اگلی بار کے لیے ایک چھوٹی چیز چنیں جو مختلف طریقے سے کریں گے۔
پہلے ہفتے کے لیے ایک نرم منصوبہ
احساسات پر اپنا ردِعمل بدلنے میں وقت لگتا ہے۔ ایک ہفتے کا یہ منصوبہ طریقوں کو ایک ایک کر کے شامل کرتا ہے، تاکہ کچھ بھی بوجھل نہ لگے۔ اوپر کے نوٹ میں بتائی گئی کوئی صورت آپ پر لاگو ہو تو پہلے اپنے ڈاکٹر سے بات کریں۔
| دن | توجہ | کیا کریں |
|---|---|---|
| دن 1 | دھیان دینا | کھانے اور موڈ کی ڈائری شروع کریں۔ صرف یہ لکھیں کہ کھانوں کے علاوہ کب کھایا اور کیا محسوس ہوا۔ ابھی کوئی تبدیلی نہیں۔ |
| دن 2 | معمول | تقریباً مقررہ اوقات پر تین کھانوں کا منصوبہ بنائیں، اور لمبا وقفہ ہو تو ایک اسنیک۔ ڈائری جاری رکھیں۔ |
| دن 3 | وقفہ | بغیر منصوبے کے کچھ بھی کھانے سے پہلے چند منٹ رکیں اور پوچھیں “میں کیا محسوس کر رہا/رہی ہوں؟” |
| دن 4 | HALT | فریج یا الماری پر HALT کا نوٹ لگائیں اور ہر بار کھانے کی خواہش ہونے پر اسے استعمال کریں۔ |
| دن 5 | متبادل | کھانے کے بغیر سنبھلنے کے پانچ طریقوں کی اپنی فہرست لکھیں، اپنے سب سے عام احساسات کے مطابق۔ |
| دن 6 | حرکت اور آرام | جس وقت عموماً طلب شروع ہوتی ہے اس وقت تھوڑی واک کریں، اور رات کو جلدی سونے کا منصوبہ بنائیں۔ |
| دن 7 | جائزہ | اپنی ڈائری پڑھیں۔ اپنے دو سب سے بڑے محرکات پہچانیں اور اگلے ہفتے ہر ایک کے لیے ایک طریقہ چنیں۔ |
دوسرے ہفتے میں جو طریقے کام آئے انہیں رکھیں اور جو نہیں آئے انہیں چھوڑ دیں۔ کسی کو وقفہ سب سے کارآمد لگتا ہے؛ کوئی شام کی واک کا قائل ہو جاتا ہے۔ کوئی ایک درست ملاپ نہیں ہوتا۔
پیش رفت عموماً یوں نظر آتی ہے: کم واقعات، چھوٹے واقعات، یا بس یہ زیادہ سمجھ کہ کیا ہو رہا ہے۔ ان میں سے ہر بات اہم ہے۔ دباؤ کے دنوں میں پرانے انداز لوٹ آئیں تو یہ عام ہے، ناکامی نہیں؛ وزن واپس کیوں آتا ہے والا ہمارا صفحہ بتاتا ہے کہ جسم اکثر پلٹ کر زور کیوں لگاتا ہے۔
جذباتی کھانا کب بنج ایٹنگ ڈس آرڈر ہو سکتا ہے
جب کھانا بار بار آپ کے قابو سے باہر لگے اور آپ کو حقیقی پریشانی دے، تب جذباتی کھانا ماہر کی مدد لینے کی وجہ بن جاتا ہے۔ ایسے میں یہ بنج ایٹنگ ڈس آرڈر (بے قابو کھانے کا عارضہ) ہو سکتا ہے، جو ذہنی صحت کی ایک تسلیم شدہ حالت ہے اور جس کا علاج ہو سکتا ہے۔
بنج ایٹنگ ڈس آرڈر کا مطلب بڑی پلیٹ چننا یا “تھوڑا زیادہ کھا لینا” نہیں۔ Beat کے مطابق بنج بہت تکلیف دہ ایسے دورے ہیں جن میں انسان کم وقت میں بہت سارا کھانا کھا لیتا ہے اور چاہ کر بھی رکنا مشکل ہوتا ہے۔ یہ کسی بھی جسامت، عمر، جنس یا پس منظر کے شخص کو ہو سکتا ہے۔
نشانیاں کہ یہ جذباتی کھانے سے زیادہ ہو سکتا ہے
کسی ایک مشکل شام کے بجائے پورے انداز کو دیکھیں۔ اگر ان میں سے کئی باتیں جانی پہچانی لگیں تو مدد لینے پر غور کریں:
- اکثر لگتا ہے کہ ایک بار شروع کرنے کے بعد آپ رک نہیں پاتے، چاہے رکنا چاہیں۔
- آپ کم وقت میں بہت زیادہ کھاتے ہیں، اکثر تیزی سے اور تب تک جب تک پیٹ تکلیف دہ حد تک نہ بھر جائے۔
- شرمندگی کی وجہ سے آپ چھپ کر یا اکیلے کھاتے ہیں، اور شاید کھانا یا ریپر چھپاتے ہیں۔
- بعد میں شدید شرمندگی، گھن یا احساسِ جرم ہوتا ہے، اور کھانے کے گرد اداسی یا گھبراہٹ رہتی ہے۔
- کھانے، کھانا کھانے یا اپنے جسم کے بارے میں خیالات دن کا بڑا حصہ گھیر لیتے ہیں۔
- آپ کا کھانا کام، رشتوں یا میل جول پر اثر ڈالنے لگا ہے، یا اس کی وجہ سے آپ ملنے جلنے کے پروگرام ٹالتے ہیں۔
- آپ ان دوروں کی تلافی سخت ڈائٹنگ، لمبے عرصے بھوکا رہنے، قے کرنے، جلاب لینے یا نڈھال ہونے تک ورزش کر کے کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔
مدد مانگنے کے لیے نہ تو ساری نشانیاں ہونا ضروری ہے، نہ پکا یقین۔ بہت سے لوگ برسوں انتظار کرتے ہیں کیونکہ سمجھتے ہیں کہ ان کا مسئلہ “اتنا سنگین نہیں”۔ جلد مدد ملے تو صحت یابی کا امکان سب سے اچھا ہوتا ہے۔
اگر کبھی خود کو نقصان پہنچانے کے خیالات آئیں تو فوراً اپنے ملک کے ایمرجنسی نمبر یا کسی کرائسس ہیلپ لائن سے رابطہ کریں۔
جذباتی کھانے اور بنج ایٹنگ ڈس آرڈر کا موازنہ
| پہلو | روزمرہ کا جذباتی کھانا | ممکنہ بنج ایٹنگ ڈس آرڈر |
|---|---|---|
| قابو کا احساس | مشکل ہو تب بھی عموماً رک جاتے ہیں | دورے کے دوران قابو کھو دینے کا شدید احساس |
| مقدار اور رفتار | سوچے سے تھوڑا زیادہ، یا تسلی کے لیے کوئی اسنیک | کم وقت میں بڑی مقدار، اکثر بہت تیزی سے |
| بعد کے احساسات | تھوڑا پچھتاوا، جو گزر جاتا ہے | شدید شرمندگی، گھن یا بے چینی |
| روزمرہ زندگی پر اثر | کم، یا کبھی کبھار | بہت سوچ اور وقت لیتا ہے؛ موڈ، کام یا رشتوں پر اثر |
| کیا مدد کرتا ہے | اس صفحے جیسے خود اپنائے جانے والے طریقے | ماہر سے جانچ اور علاج، ساتھ میں خود سے نرمی |
سخت ڈائٹنگ جواب کیوں نہیں
اگر آپ کو بے قابو کھانے کی نشانیاں نظر آئیں تو براہِ کرم جواب میں اور کڑی ڈائٹ نہ کریں۔ سخت اصول، کھانا چھوڑنا اور لمبے فاقے بنج کی خواہش کو اور تیز کر سکتے ہیں۔ Cleveland Clinic بتاتا ہے کہ صحت یابی کا زور ڈائٹ یا کھانے کے اصولوں پر نہیں بلکہ باقاعدہ اور غذائیت بھرے کھانے پر ہوتا ہے۔
ماہرانہ علاج عموماً کھانے کو پھر سے ایک مستحکم معمول میں لانے اور محرکات سمجھنے سے شروع ہوتا ہے۔ وزن کے اہداف پر بعد میں، جب کھانا پُرسکون ہو جائے، اپنی علاج ٹیم کے ساتھ بات کی جا سکتی ہے۔
ماہرانہ مدد کہاں سے لیں
پہلا قدم عموماً آپ کا اپنا ڈاکٹر یا فیملی ڈاکٹر ہوتا ہے، جو سمجھ سکتا ہے کہ کیا ہو رہا ہے اور درست سروس کے پاس بھیج سکتا ہے۔ یہ بات چھیڑنا مشکل لگ سکتا ہے، اس لیے پہلے سے تیاری مدد کرتی ہے۔
- آپ کا ڈاکٹر: بتائیں کہ کیا ہوتا ہے، کتنی بار اور آپ کو کیسا محسوس ہوتا ہے۔ آپ کہہ سکتے ہیں: “مجھے لگتا ہے کہ مجھے بے قابو ہو کر کھانے کا مسئلہ ہو سکتا ہے، اور مجھے مدد چاہیے۔” ہماری ڈاکٹر کے پاس جانے کی چیک لسٹ خیالات ترتیب دینے میں مدد دیتی ہے۔
- ایٹنگ ڈس آرڈر سروس: کئی ممالک میں ماہر ٹیمیں ہیں، جن تک ڈاکٹر کے ریفرل سے اور کبھی کبھار براہِ راست بھی پہنچا جا سکتا ہے۔
- ماہرِ نفسیات یا تھراپسٹ: بات چیت پر مبنی تھراپی، خاص طور پر کاگنیٹو بیہیویئرل تھراپی (CBT)، بنج ایٹنگ ڈس آرڈر کا بنیادی علاج ہے۔ نفسیاتی مدد والا ہمارا صفحہ یہ طریقے سمجھاتا ہے۔
- رجسٹرڈ ماہرِ غذائیت: سخت اصولوں کے بغیر، باقاعدہ اور لچکدار انداز سے کھانے کی عادت دوبارہ بنانے میں مدد کر سکتا ہے۔
- مقامی تنظیمیں اور ہیلپ لائنز: کئی جگہوں پر کھانے کے عوارض کے لیے تنظیمیں، سپورٹ گروپ اور ہیلپ لائنز موجود ہیں۔ آپ کا ڈاکٹر بتا سکتا ہے کہ آپ کے علاقے میں کون سی دستیاب ہیں۔
اگر آپ کو لگے کہ آپ کی بات سنی نہیں جا رہی، یا وزن کی وجہ سے آپ کو پرکھا جا رہا ہے، تو آپ کو کسی دوسرے ماہر سے ملنے کا پورا حق ہے۔ کھانے کے عوارض ہر جسامت کے لوگوں کو ہوتے ہیں، اور آپ بھی اتنی ہی اچھی دیکھ بھال کے حق دار ہیں۔ ہمارے مدد تلاش کریں صفحے پر درست سہارا ڈھونڈنے کے مزید مشورے ہیں۔
کسی اور کے بارے میں فکرمند ہیں؟ کھانے یا وزن پر تبصروں سے کہیں زیادہ مدد نرم، بغیر پرکھے ہونے والی بات چیت کرتی ہے۔ کسی پیارے کا ساتھ دینا والی ہماری گائیڈ میں عملی مشورے ہیں۔

Obesity Foundation کیسے مدد کرتی ہے
Obesity Foundation اچھے کھانے، مناسب ورزش اور پیدل چلنے کے ذریعے وزن کم کرنے اور بہتر محسوس کرنے میں آپ کی مدد کرتی ہے، اور جذباتی کھانے کے روزمرہ پہلو کے لیے عملی سہارا دیتی ہے: باقاعدہ کھانا، ایسی حرکت جس میں مزہ آئے، اور بات کرنے کے لیے کوئی۔ سب کچھ مفت ہے، کسی سبسکرپشن کے بغیر۔
مفت ویڈیو میٹنگ: کوئی جو سنے
کبھی کبھی بس جو چل رہا ہے اسے بول کر کہہ دینا مدد کرتا ہے۔ مفت ویڈیو میٹنگ (انگریزی میں) میں ہمارا کوئی رضاکار بغیر پرکھے سنتا ہے، چھوٹے عملی اگلے قدم سوچنے میں مدد کرتا ہے اور قابلِ اعتماد معلومات تک پہنچاتا ہے۔ آپ اس میٹنگ سے اپنے ڈاکٹر سے بات چیت کی تیاری بھی کر سکتے ہیں۔
براہِ کرم جان لیں کہ یہ میٹنگز کیا ہیں اور کیا نہیں۔ ہمارے رضاکار ڈاکٹر، ماہرِ نفسیات یا تھراپسٹ نہیں ہیں۔ ویڈیو میٹنگ تھراپی نہیں، علاج نہیں اور بحران کی سروس بھی نہیں۔ ایٹنگ ڈس آرڈر، اداس موڈ یا ذہنی صحت کی دوسری فکروں کے لیے آپ کا ڈاکٹر یا کوئی مستند ماہر ہی صحیح شخص ہے۔ اگر آپ بحران میں ہیں تو میٹنگ کا انتظار نہ کریں: اپنے ملک کے ایمرجنسی نمبر یا کسی کرائسس ہیلپ لائن سے رابطہ کریں۔
- مفت ویڈیو میٹنگ (انگریزی میں) ایک ایسے رضاکار کے ساتھ جو سنتا ہے: مفت ویڈیو میٹنگ بک کریں۔
- مفت ڈائٹ پلان، باقاعدہ اور پیٹ بھرنے والے کھانوں کے ساتھ، بغیر کسی ممنوعہ کھانے کے: اپنا مفت ڈائٹ پلان منگوائیں۔
- مفت ورزش ویڈیوز تین درجوں میں، بیٹھ کر کیے جانے والے ہلکے سیشنز (Start) سے لے کر Build اور Strong تک: مفت ویڈیوز کے لیے سائن اپ کریں۔
- مفت Obesity Foundation Club، آپ کا اپنا اکاؤنٹ، جس میں واک اور ورزشیں درج کریں، ذاتی ہدف طے کریں اور مدد مانگیں: Club میں شامل ہوں۔
جذباتی کھانا ایسی چیز ہے جسے آپ ایک ایک چھوٹے قدم کے ساتھ سمجھنا اور بدلنا سیکھ سکتے ہیں۔ آپ کو یہ اکیلے نہیں کرنا، اور اسے کامل طریقے سے کرنا بھی ضروری نہیں۔
اکثر پوچھے جانے والے سوالات
ذہنی دباؤ میں میٹھا کھانے کو دل کیوں چاہتا ہے؟
جب دباؤ لمبا چلے تو جسم کورٹیسول خارج کرتا رہتا ہے، جس سے بھوک بڑھ سکتی ہے۔ میٹھا اور چکنائی والا کھانا دماغ کے انعامی نظام کو بھی متحرک کرتا ہے اور دباؤ کے ردِعمل کو کچھ دیر ٹھنڈا کرتا ہے، اس لیے دماغ انہیں مانگنا سیکھ جاتا ہے۔ تھوڑی سی واک، آہستہ سانس یا کسی بھروسے کے شخص سے فون پر بات اس خواہش کو ہلکا کر سکتی ہے، اور باقاعدہ کھانا بھوک کو اس میں شامل نہیں ہونے دیتا۔
کیا کھانے کی طلب کا مطلب ہے کہ جسم میں کسی غذائی جزو کی کمی ہے؟
روزمرہ کی زیادہ تر طلب کے لیے غالباً نہیں۔ تحقیقی جائزے بتاتے ہیں کہ غذائی ضرورت کے مقابلے میں عادات، موڈ، تھکن، کھانے کے اشارے اور کسی خاص چیز پر پابندی طلب کو بہتر سمجھاتے ہیں۔ اگر ساتھ میں آپ غیر معمولی طور پر تھکے یا بیمار محسوس کریں تو اپنے ڈاکٹر کو بتائیں۔
کیا ڈائٹنگ سے جذباتی کھانا بڑھتا ہے؟
سخت ڈائٹنگ سے بڑھ سکتا ہے۔ کسی ایک چیز پر مکمل پابندی اس کی چاہ اور بڑھا دیتی ہے، اور کھانا چھوڑنے سے دن ڈھلے شدید بھوک لگتی ہے۔ بتدریج، لچکدار تبدیلیاں بہتر کام کرتی ہیں: موٹاپے والے بالغوں کے طویل، نگرانی والے وزن کنٹرول پروگراموں میں وقت کے ساتھ طلب اوسطاً کم ہوئی۔
جذباتی کھانا روکنے میں کتنا وقت لگتا ہے؟
کوئی مقررہ مدت نہیں، کیونکہ جذباتی کھانا برسوں میں بننے والی عادت ہے۔ وقفہ، کھانے اور موڈ کی ڈائری اور باقاعدہ کھانے جیسے طریقے اپنانے کے چند ہفتوں میں بہت سے لوگ زیادہ آگاہی اور کم یا چھوٹے واقعات دیکھتے ہیں۔ دباؤ کے دنوں میں پرانے انداز لوٹ سکتے ہیں؛ یہ معمول کی بات ہے، ناکامی نہیں۔
کیا میں اب بھی تسلی والا کھانا کھا سکتا/سکتی ہوں؟
جی ہاں۔ تسلی والا کھانا زندگی کا حصہ ہے، اور اس پر پابندی اکثر الٹی پڑتی ہے۔ مقصد یہ ہے کہ کھانا خود کو تسلی دینے کا ایک طریقہ رہے، واحد نہیں۔ جب کوئی پسندیدہ چیز چنیں تو بیٹھیں، اسے پلیٹ میں نکالیں اور پوری توجہ دیں، تاکہ واقعی اس کا مزہ لے سکیں۔
بوریت ہو تو کھانے کے بجائے کیا کروں؟
کچھ ایسا آزمائیں جو تھوڑی دیر ہاتھوں یا ذہن کو مصروف رکھے: مختصر واک، پہیلی، پوڈکاسٹ، باغبانی، کوئی ٹلتا آ رہا چھوٹا کام یا کسی دوست کو میسج۔ فون میں ایک چھوٹی فہرست رکھیں، تاکہ اس لمحے آئیڈیاز سوچنے نہ پڑیں۔
حوالہ جات
- Beat – بنج ایٹنگ ڈس آرڈر (BED): نشانیاں، علامات اور جذبات میں زیادہ کھانا: Binge eating disorder (BED) (انگریزی میں)
- Cleveland Clinic – بنج ایٹنگ ڈس آرڈر: علامات، تشخیص اور علاج: Binge eating disorder (انگریزی میں)
- Cleveland Clinic Health Essentials – Decoding your hunger: are you really hungry or not? (2019، انگریزی میں)
- Torres SJ, Nowson CA – Relationship between stress, eating behavior, and obesity. Nutrition (2007، انگریزی میں)
- Mindful – HALT مشق: Try the HALT practice to tune in to what your body needs (انگریزی میں)
- Adam TC, Epel ES – Stress, eating and the reward system. Physiology & Behavior (2007، انگریزی میں)
- Hill AJ – The psychology of food craving. Proceedings of the Nutrition Society (2007، انگریزی میں)
- Kahathuduwa CN et al. – Extended calorie restriction suppresses overall and specific food cravings: a systematic review and meta-analysis. Obesity Reviews (2017، انگریزی میں)
- Greer SM, Goldstein AN, Walker MP – The impact of sleep deprivation on food desire in the human brain. Nature Communications (2013، انگریزی میں)
- Vasileiou V, Abbott S – Emotional eating among adults with healthy weight, overweight and obesity: a systematic review and meta-analysis. Journal of Human Nutrition and Dietetics (2023، انگریزی میں)
- Vartanian LR, Porter AM – Weight stigma and eating behavior: a review of the literature. Appetite (2016، انگریزی میں)
- Burke LE, Wang J, Sevick MA – Self-monitoring in weight loss: a systematic review of the literature. Journal of the American Dietetic Association (2011، انگریزی میں)
- Ledochowski L et al. – Acute effects of brisk walking on sugary snack cravings in overweight people: a crossover study. PLoS One (2015، انگریزی میں)
- Katterman SN et al. – Mindfulness meditation as an intervention for binge eating, emotional eating, and weight loss: a systematic review. Eating Behaviors (2014، انگریزی میں)
- Turk F, Waller G – Is self-compassion relevant to the pathology and treatment of eating and body image concerns? A systematic review and meta-analysis. Clinical Psychology Review (2020، انگریزی میں)
