یہ پیمائشیں جانچ کے اوزار ہیں، آپ کی صحت پر فیصلہ نہیں۔ ڈاکٹر انہیں بلڈ پریشر، خون کے ٹیسٹوں اور روزمرہ زندگی میں آپ کی طبیعت اور کام کاج کے ساتھ ملا کر دیکھتا ہے۔
بی ایم آئی کیا ہے اور اسے کیسے نکالتے ہیں؟
BMI ایک سادہ عدد ہے جو آپ کے وزن کا آپ کے قد سے موازنہ کرتا ہے۔ اسے نکالنے کے لیے کلوگرام میں وزن کو میٹر میں قد ضرب قد سے تقسیم کریں۔
مثال: 85 کلو وزن اور 1.70 میٹر قد والے شخص کا BMI ہے 85 ÷ (1.70 × 1.70) = 85 ÷ 2.89 = تقریباً 29.4۔ اگر آپ پاؤنڈ اور انچ میں ناپتے ہیں تو وزن (پاؤنڈ) کو 703 سے ضرب دیں اور انچ میں قد کے مربع سے تقسیم کریں۔
BMI تیز، سستا اور ہر جگہ ایک جیسا ہے، اسی لیے عالمی ادارہ صحت (WHO) اسے ملکوں کے موازنے اور وقت کے ساتھ رجحانات دیکھنے کے لیے استعمال کرتا ہے۔ کسی ایک شخص کے لیے یہ گفتگو کا نقطہ آغاز ہے، اکیلے تشخیص نہیں۔
بالغوں کے لیے BMI کے زمرے کیا ہیں؟
بالغوں میں WHO کے مطابق 25 یا زیادہ BMI زیادہ وزن اور 30 یا زیادہ موٹاپا ہے۔ موٹاپے کو اکثر تین درجوں میں بانٹا جاتا ہے، کیونکہ BMI بڑھنے کے ساتھ صحت کے خطرات بھی بڑھتے ہیں۔
| BMI (kg/m²) | زمرہ |
|---|---|
| 18.5 سے کم | کم وزن |
| 18.5 سے 24.9 | صحت مند وزن |
| 25 سے 29.9 | زیادہ وزن |
| 30 سے 34.9 | موٹاپا درجہ I |
| 35 سے 39.9 | موٹاپا درجہ II |
| 40 یا زیادہ | موٹاپا درجہ III (کبھی شدید موٹاپا کہلاتا ہے) |
یہ زمرے صرف بالغوں کے لیے ہیں۔ بچوں اور نوعمروں کا جائزہ نشوونما کے چارٹوں سے لیا جاتا ہے جو عمر اور جنس کو مدِنظر رکھتے ہیں؛ مزید ہمارے بچوں میں موٹاپا کے صفحے پر پڑھیں۔ حمل کے دوران وزن پرکھنے کے لیے بھی BMI استعمال نہیں ہوتا۔
کیا مختلف نسلی گروہوں کے لیے BMI کی حدیں مختلف ہیں؟
جی ہاں۔ کچھ نسلی پس منظر کے لوگوں میں ٹائپ 2 ذیابیطس جیسے خطرات کم BMI پر شروع ہو جاتے ہیں، اس لیے اکثر کم حدیں استعمال کی جاتی ہیں۔ یہ پاکستان اور جنوبی ایشیا کے لوگوں کے لیے خاص طور پر اہم ہے۔
ایشیائی آبادیوں پر WHO کی ماہرین کی مشاورت نے بین الاقوامی BMI زمرے برقرار رکھے، مگر 23، 27.5، 32.5 اور 37.5 پر اضافی عملی نکات کی نشاندہی کی۔ ملکوں کو مشورہ دیا گیا کہ وہ اپنی آبادی کے لیے خود طے کریں کہ کون سے نکات استعمال کرنے ہیں۔
برطانیہ میں NICE جنوبی ایشیائی، چینی، دوسرے ایشیائی، مشرقِ وسطیٰ، سیاہ فام افریقی یا افریقی کیریبین پس منظر کے بالغوں کے لیے کم حدوں کی سفارش کرتا ہے:
| زمرہ | معیاری حد | کم حد |
|---|---|---|
| زیادہ وزن | 25 سے 29.9 | 23 سے 27.4 |
| موٹاپا | 30 یا زیادہ | 27.5 یا زیادہ |
| موٹاپا درجہ II اور III | 35 اور 40 | عموماً 2.5 پوائنٹ کم |
نسل صرف ایک عنصر ہے۔ خاندانی تاریخ، خون میں شکر اور چربی کہاں جمع ہے، یہ بھی اہم ہیں، اس لیے اپنے ڈاکٹر سے پوچھیں کہ آپ پر کون سی حدیں لاگو ہوتی ہیں۔
کمر کا ناپ کیوں اہم ہے؟
کمر کا ناپ اس لیے اہم ہے کہ پیٹ کے گرد چربی، خاص طور پر اندرونی اعضا کے گرد گہری چربی، جسم کے دوسرے حصوں کی چربی کے مقابلے میں ٹائپ 2 ذیابیطس اور دل کی بیماری سے زیادہ قریبی تعلق رکھتی ہے۔ ایک جیسے BMI والے دو لوگوں کے خطرات بہت مختلف ہو سکتے ہیں۔
یورپی پس منظر کے بالغوں کے لیے عام طور پر استعمال ہونے والی کمر کی حدیں پہلی بار BMJ میں تجویز کی گئیں اور اب دنیا بھر میں استعمال ہوتی ہیں:
| خطرہ | مرد | خواتین |
|---|---|---|
| بڑھا ہوا | 94 سینٹی میٹر سے زیادہ | 80 سینٹی میٹر سے زیادہ |
| کافی بڑھا ہوا | 102 سینٹی میٹر سے زیادہ | 88 سینٹی میٹر سے زیادہ |
ایشیائی پس منظر کے لوگوں کے لیے اکثر کمر کی کم حدیں استعمال ہوتی ہیں۔ ایک اور پیمانہ کمر اور کولہے کا تناسب ہے، جو یہ بھی دکھاتا ہے کہ پیٹ کے گرد کتنی چربی جمع ہے۔
کمر اور قد کا تناسب کیا ہے؟
کمر اور قد کا تناسب آپ کی کمر کے ناپ کو قد سے تقسیم کر کے نکلتا ہے، اور 0.5 یا زیادہ کا مطلب صحت کا بڑھا ہوا خطرہ ہے۔ سادہ اصول یہ ہے: اپنی کمر قد کے آدھے سے کم رکھیں۔ NICE کے مطابق یہی حدیں دونوں جنسوں اور تمام نسلوں کے بالغوں پر لاگو ہو سکتی ہیں۔
| تناسب | مطلب |
|---|---|
| 0.4 سے 0.49 | پیٹ کی چربی صحت مند، خطرہ نہیں بڑھا |
| 0.5 سے 0.59 | پیٹ کی چربی زیادہ، خطرہ بڑھا ہوا |
| 0.6 یا زیادہ | پیٹ کی چربی بہت زیادہ، خطرہ مزید بڑھا ہوا |
NICE یہ تناسب 35 سے کم BMI والے بالغوں، اور 5 سال اور زیادہ عمر کے بچوں اور نوجوانوں کے لیے استعمال کرتا ہے۔
اپنی کمر کیسے ناپیں
- اپنی پسلیوں کا نچلا سرا اور کولہے کی ہڈیوں کا اوپری حصہ تلاش کریں۔
- ان دونوں کے بیچ میں کمر کے گرد فیتہ لپیٹیں۔
- سیدھے کھڑے ہوں اور فیتہ پڑھنے سے پہلے قدرتی طور پر سانس باہر نکالیں۔
- کمر اور قد کے لیے ایک ہی اکائی (سینٹی میٹر یا انچ) استعمال کریں، پھر کمر کو قد سے تقسیم کریں۔
BMI کیا نہیں بتاتا؟
BMI جسم کی چربی، چربی کہاں جمع ہے، یا جسم کتنا اچھا کام کر رہا ہے، یہ نہیں ناپتا۔ اس سے کچھ معلوم کمیاں پیدا ہوتی ہیں:
- پٹھے: زیادہ پٹھوں والے لوگوں کا BMI زیادہ چربی کے بغیر بھی زیادہ ہو سکتا ہے۔
- بڑی عمر کے لوگ: تقریباً 65 سال کی عمر سے اکثر پٹھے کم ہونے لگتے ہیں اور BMI کو احتیاط سے پڑھنا چاہیے۔
- چربی کی تقسیم: صحت مند حد کے BMI والے لوگوں کے پیٹ پر بھی خطرناک چربی ہو سکتی ہے۔
- جسم کی ساخت اور قد: قد پر اثر ڈالنے والی حالتوں میں BMI کم قابلِ اعتماد ہے۔
جسم کی چربی کی براہِ راست پیمائش، جیسے DEXA اسکین یا بائیو الیکٹریکل امپیڈنس، زیادہ تفصیل دیتی ہے مگر ہمیشہ دستیاب نہیں ہوتی۔
انہی حدود کی وجہ سے کلینیکل موٹاپے پر Lancet Diabetes & Endocrinology کمیشن نے مشورہ دیا کہ کسی ایک فرد میں موٹاپے کی تشخیص کے لیے اکیلا BMI استعمال نہ کیا جائے۔ کمیشن تجویز کرتا ہے کہ زیادہ چربی کی تصدیق BMI کے ساتھ کمر کی کم از کم ایک پیمائش سے، جسم کی دو پیمائشوں سے، یا چربی کی براہِ راست پیمائش سے کی جائے۔
40 سے زیادہ BMI پر زیادہ چربی فرض کی جا سکتی ہے۔ مزید ہمارے کلینیکل اور پری کلینیکل موٹاپا کے صفحے پر پڑھیں۔
پیمانے کا انتخاب واقعی فرق ڈالتا ہے۔ امریکہ کے قومی سروے کے اعداد و شمار پر ایک حالیہ تحقیق میں صرف BMI کی بنیاد پر تقریباً 40 فیصد بالغوں کو موٹاپا تھا، مگر جب 0.5 سے زیادہ کمر اور قد کا تناسب شامل کیا گیا تو تقریباً 75 فیصد۔ مصنفین نے نوٹ کیا کہ یہ حد کچھ گروہوں میں زیادہ چربی کا اندازہ بڑھا چڑھا کر لگا سکتی ہے۔
اپنے نمبروں کا میں کیا کروں؟
اپنے نمبروں کو اپنے بارے میں فیصلہ نہیں بلکہ اپنے ڈاکٹر سے گفتگو کا نقطہ آغاز سمجھیں۔ اچھے جائزے میں بلڈ پریشر، شوگر، کولیسٹرول، نیند، مزاج، چلنے پھرنے کی صلاحیت اور خاندانی تاریخ بھی دیکھی جاتی ہے، جو مل کر آپ کے صحت کے ذاتی خطرات دکھاتی ہیں۔
تیاری کرنا چاہیں تو ہماری ڈاکٹر سے ملاقات کی تیاری والی فہرست مدد کر سکتی ہے۔ عزت سے ناپا جانا آپ کا حق ہے، اور آپ کہہ سکتے ہیں کہ نتائج اونچی آواز میں بتانے کے بجائے لکھ دیے جائیں۔ اگر آپ کا تجربہ برا رہا ہے تو ہمارا ڈاکٹروں اور اسپتالوں میں وزن کا تعصب والا صفحہ آپ کے آپشنز سمجھاتا ہے۔
اکثر پوچھے جانے والے سوالات
میں اپنا بی ایم آئی کیسے نکالوں؟
کلوگرام میں اپنا وزن میٹر میں قد کے مربع سے تقسیم کریں۔ مثلاً 1.70 میٹر قد پر 85 کلو سے 85 ÷ 2.89 بنتا ہے، یعنی تقریباً 29.4۔ پاؤنڈ اور انچ میں، وزن کو 703 سے ضرب دیں اور انچ میں قد کے مربع سے تقسیم کریں۔
موٹاپے کے درجے I، II اور III کیا ہیں؟
یہ بالغوں کے لیے BMI کی حدیں ہیں جو موٹاپے کی بڑھتی سطح دکھاتی ہیں: درجہ I 30 سے 34.9، درجہ II 35 سے 39.9 اور درجہ III 40 یا زیادہ۔ عموماً ایک درجے سے اگلے درجے تک صحت کے خطرات بڑھتے ہیں۔ کچھ نسلی گروہوں کے لیے اکثر کم حدیں استعمال ہوتی ہیں۔
کیا کمر اور قد کا تناسب BMI سے بہتر ہے؟
یہ وہ معلومات دیتا ہے جو BMI میں نہیں، کیونکہ یہ دکھاتا ہے کہ پیٹ کے گرد کتنی چربی ہے۔ 0.5 یا زیادہ کا تناسب صحت کے بڑھے ہوئے خطرے سے جڑا ہے۔ زیادہ تر رہنما اصول اسے BMI کی جگہ نہیں بلکہ اس کے ساتھ استعمال کرنے کا مشورہ دیتے ہیں۔
ایشیائی پس منظر کے لوگوں کے لیے BMI کی حد کم کیوں ہے؟
تحقیق بتاتی ہے کہ اوسطاً ایشیائی پس منظر کے لوگوں کو ٹائپ 2 ذیابیطس جیسی بیماریاں کم BMI پر ہو جاتی ہیں۔ اسی لیے WHO کی ماہرین کی مشاورت نے 23 اور 27.5 جیسے اضافی عملی نکات بتائے، اور برطانیہ کی رہنمائی کئی نسلی گروہوں کے لیے 27.5 کو موٹاپے کی حد مانتی ہے۔
حوالہ جات
- NHLBI (NIH) – BMI، کمر کے گھیر اور متعلقہ بیماری کے خطرات کے لحاظ سے زیادہ وزن اور موٹاپے کی درجہ بندی (انگریزی میں)
- NICE – Overweight and obesity management (NG246): identifying and assessing overweight, obesity and central adiposity (انگریزی میں)
- WHO Expert Consultation – Appropriate body-mass index for Asian populations، The Lancet (2004) (انگریزی میں)
- Lean MEJ, Han TS, Morrison CE – Waist circumference as a measure for indicating need for weight management، BMJ (1995) (انگریزی میں)
- King's College London – موٹاپے کی تشخیص میں بڑی تبدیلی کی تجویز (2025) (انگریزی میں)
- Healio – Lancet کمیشن کے نئے معیار کے تحت امریکہ کے تقریباً 75% بالغ موٹاپے والے (2026) (انگریزی میں)
